جمعرات 22 اکتوبر 2026 - 18:06
حرم امام حسینؑ کے مسئولِ امورِ دینی سے پاکستانی علماء کی ملاقات:ملکی و علاقائی صورتحال، زائرین کو درپیش مسائل اور بین المذاہب اتحاد و وحدت پر تبادلۂ خیال

حوزہ/حرمِ مطہر امام حسین علیہ السلام کے مسئولِ امورِ دینی حجت الاسلام والمسلمین شیخ احمد صافی سے ایک خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا، جس میں علامہ امین شہیدی، مولانا سید کرار الحسینی، مولانا کرم علی حیدری، معروف نوحہ خواں سید شادمان رضوی اور دیگر علمائے کرام شریک تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملاقات کے دوران موجودہ ملکی و علاقائی صورتِ حال، زائرینِ کرام کو درپیش مسائل، ان کی سہولت و رہنمائی اور بین المذاہب ہم آہنگی، اتحادِ امت اور باہمی رواداری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں علماء کرام، دینی شخصیات اور مذہبی و سماجی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیں، اختلافات کے بجائے مشترکہ دینی و انسانی اقدار کو اجاگر کریں اور معاشرے میں امن، اخوت، باہمی احترام اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

ملاقات میں زائرینِ عتباتِ عالیات کی خدمت، ان کے لیے سہولتوں میں بہتری اور مختلف ممالک سے آنے والے زائرین کے درمیان محبت و ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

حرم امام حسینؑ کے مسئولِ امورِ دینی سے پاکستانی علماء کی ملاقات:ملکی و علاقائی صورتحال، زائرین کو درپیش مسائل اور بین المذاہب اتحاد و وحدت پر تبادلۂ خیال

ملاقات کے اختتام پر حجت الاسلام والمسلمین شیخ احمد صافی نے بلتستان کی دینی، علمی اور سماجی خدمات پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وہاں کے علماء کرام، بزرگوں اور دینی شخصیات کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔

انہوں نے بلتستان کی دینی روایات، علماء کی علمی و تبلیغی کاوشوں اور معاشرے میں ان کے مثبت کردار کے حوالے سے تعریفی کلمات ادا کیے۔

اس موقع پر معروف نوحہ خواں جناب شادمان رضوی اور جناب شیخ احمد صافی نے عربی زبان میں نوحہ پڑھ کر جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو پرسہ پیش کیا۔

یہ ملاقات دینی قیادت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے، باہمی تجربات سے استفادہ کرنے اور اتحادِ ملتِ اسلامیہ کے پیغام کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی گئی۔ ایسی ملاقاتیں نہ صرف دینی و علمی تعلقات کو فروغ دیتی ہیں، بلکہ عالمِ اسلام میں اتحاد، اخوت، رواداری اور مشترکہ دینی و انسانی اقدار کے تحفظ کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha